فنون لطیفہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ فنون، جو انسان کی جمالیات حس کی تسکین کرتے ہیں؛ مثلاً شاعری، موسیقی، مصوری، رقص، مجسمہ سازی، فنون نفیسہ۔ "کہا جاتا ہے کہ فی الحال پاکستان میں فنونِ لطیفہ کے لیے ماحول ساز گار نہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، افکار، کراچی، اگست، ٤٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم جمع 'فنون' کو کسرۂ صفت کے ذریعے عربی ہی سے مشتق صفت 'لطیف' کی مؤنث 'لطیفہ' کے ساتھ ملانے سے مرکب توصیفی بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٢ء کو "نقشِ فرہنگ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ فنون، جو انسان کی جمالیات حس کی تسکین کرتے ہیں؛ مثلاً شاعری، موسیقی، مصوری، رقص، مجسمہ سازی، فنون نفیسہ۔ "کہا جاتا ہے کہ فی الحال پاکستان میں فنونِ لطیفہ کے لیے ماحول ساز گار نہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، افکار، کراچی، اگست، ٤٥ )

جنس: مذکر